13 نومبر 2015 - 14:22
روس چھٹی نسل کے جنگی طیارے ڈیزائن کر رہا ہے

روس میں پرواز کرنے والے نئے ہائپرسونک آلے کی عمومی آزمائش کامیاب رہی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق روس میں پرواز کرنے والے نئے ہائپرسونک آلے کی عمومی آزمائش کامیاب رہی ہے۔ جیسا کہ چینل "زویزدا" نے بتایا ہے کہ اس انتہائی خفیہ آلے بارے بہت محدود شہادتیں تھیں، جسے پریس میں یو-71 کا نام دیا گیا تھا، جو اصل میں پروجیکٹ 4202 کا حصہ ہے، جس کا تعلق روس کے راکٹوں سے متعلق پروگرام کے ساتھ ہے۔ فی الحال صحافی اس نئی شے کے متعلق کچھ زیادہ نہیں جان پائے ہیں۔ یہ نیا طیارہ رفتار کو گیارہ ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک بڑھانے کے قابل ہے، اس میں متنوع چابکدستی دکھائے جانے کی صلاحیت ہے اور اسے پرواز کے دوران خلاء کے نزدیک تر لے جایا جا سکتا ہے۔ روس کی مسلح افواج میں ایسا اڑن آلہ 2015 کے بعد شامل ہو سکتا ہے۔

آزاد ماہرین کی رائے کے مطابق یہ طیارہ ضد میزائل دفاع کے کسی بھی نظام کو بے بس کر سکتا ہے اور اس طیارے کو روکنا یا قابو میں کرنا ناممکن ہوگا۔
"گذشتہ صدی کے اواخر میں ہتھیاروں کی دوڑ نے ہمارے ملک کو مجبور کیا کہ وہ عسکری تکنیکی سظح پر نیٹو میں شامل ملکوں کا مقابلہ کرے اور چوتھی نسل کے ہتھیار تیار کرے ۔۔۔۔ چینل "زویزدا" کو انٹرویو دیتے ہوئے روس کے نائب وزیراعظم دمتری روگوزین نے کہا ۔۔۔ پانچویں نسل ، معروضی طور پر بات کرنی چاہیے، کئی وجوہات کی بنا پر، سوویت یونین کے انہدام کی وجہ سے ڈیزائننگ بیورو میں ہی پھنس کر رہ گئی تھی۔ اس وقت عسکری تکنیکی کمپلکس کا فریضہ نہ صرف پانچویں نسل کے سازوسامان کو تیار کرنا ہے بلکہ اسے آگے کے بارے میں بھی سوچنا ہے اور ابھی سے چھٹی اور ساتویں نسل کے طیاروں کی ڈیزائننگ کا کام بھی شروع کرنا ہے۔ اس نوع کا کام، ابھی سے بتا دوں، پہلے ہی کامیاب جا رہا ہے۔ یہ بالکل نئے اور ناقابل قیاس ہونگے۔"
.......

/169